MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جانے پھر تم سے ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو

غزل

جانے پھر تم سے ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو
کھل کے دکھ درد کی کچھ بات کبھی ہو کہ نہ ہو

پھر ہجوم غم و جذبات کبھی ہو کہ نہ ہو
تم سے کہنے کو کوئی بات کبھی ہو کہ نہ ہو

آج تو ایک ہی کشتی میں ہیں منجدھار میں ہم
پھر یہ مجبورئ حالات کبھی ہو کہ نہ ہو

عہد ماضی کے فسانے ہی سنا لیں تم کو
اتنی خاموش کوئی رات کبھی ہو کہ نہ ہو

جو جلاتا ہے مرے غم کے اندھیروں میں چراغ
میرے ہاتھوں میں وہی ہات کبھی ہو کہ نہ ہو

بی ایس جین جوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم