MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رگوں میں دوڑتا جتنا لہو ضروری ہے

رگوں میں دوڑتا جتنا لہو ضروری ہے
ہمارے واسطے اتنا ہی تو ضروری ہے

کوئی جواز تو ہو اپنے زندہ ہونے کا
سکوتِ شب سے سہی گفتگو ضروری ہے

کچھ ایسی سرد ہوائیں گزرنے والی ہیں
ترا حصار مرے چار سو ضروری ہے

ہمارا تذکرہ کرتا پھرے جو غیروں میں
ہجومِ دوستاں میں اک عدو ضروری ہے

جو چاہتے ہو وہ عرفان مل ہی جائے گا
تمام عمر مگر جستجو ضروری ہے

عرفان صادق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم