MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرے دل سے محبت کی فراوانی نہیں جاتی

غزل

مرے دل سے محبت کی فراوانی نہیں جاتی
میں اکثر سوچتا ہوں کیوں یہ نادانی نہیں جاتی

یہ حالت ہو گئی ہے شدت‌ خطرات پیہم سے
کہ اچھے آدمی کی شکل پہچانی نہیں جاتی

گھروں کی رونقیں کلکاریاں بچوں کی ہوتی ہیں
کھلونوں کو سجا کر گھر کی ویرانی نہیں جاتی

نہ رسم و راہ ہے ان سے نہ باقی واسطہ کوئی
مگر پلکیں جو کرتی ہیں نگہبانی نہیں جاتی

بزرگوں سے سنا ہے ماں کے قدموں میں ہی جنت ہے
کہ خالی برکتوں سے ماں کی قربانی نہیں جاتی

بی ایس جین جوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم