MOJ E SUKHAN

اداس بام ہے در کاٹنے کو آتا ہے

غزل

اداس بام ہے در کاٹنے کو آتا ہے
ترے بغیر یہ گھر کاٹنے کو آتا ہے

خیال موسم گل بھی نہیں ستم گر کو
بہار میں بھی شجر کاٹنے کو آتا ہے

فقیہ شہر سے انصاف کون مانگے گا
فقیہ شہر تو سر کاٹنے کو آتا ہے

اسی لیے تو کسانوں نے کھیت چھوڑ دئیے
کہ کوئی اور ثمر کاٹنے کو آتا ہے

ترے خیال کا آہو کہیں بھی دن میں رہے
مگر وہ رات ادھر کاٹنے کو آتا ہے

کہا تو تھا کہ ہمیں اس قدر بھی ڈھیل نہ دے
اب اڑ رہے ہیں تو پر کاٹنے کو آتا ہے

یہ کام کرتے تھے پہلے سگان آوارہ
بشر کو آج بشر کاٹنے کا آتا ہے

یہ اس کی راہ نہیں ہے مگر یوں ہی باقیؔ
وہ میرے ساتھ سفر کاٹنے کو آتا ہے

باقی احمد پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم