MOJ E SUKHAN

کریں ان سے شکایت اور گلہ کیا

غزل

کریں ان سے شکایت اور گلہ کیا
انہیں ہم کو ستانے سے ملا کیا

ہمارے قصۂ غم کو سنا کر
اسی غم سے کسی کا دل جلا کیا

کیا بدنام ہے سارے جہاں میں
تمہیں مل جائے گا اس کا صلہ کیا

کبھی نظر عنایت سے نہ دیکھا
سکون دل ہمیں ملتا بھلا کیا

سر محفل وہ نظروں کا بچانا
وہ لمحے بھول جائیں گے بھلا کیا

اسی بے اعتنائی نے ستایا
جفا سہہ کر رہے گا حوصلہ کیا

ہوئے بیمار ہم بار نظر سے
کریں اظہار غم اب برملا کیا

فضائیں کیوں معطر ہو رہی ہیں
جہان زندگی میں گل کھلا کیا

بیگم سلطانہ ذاکر ادا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم