MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دونوں آنکھوں میں بھر لیا جائے

غزل

دونوں آنکھوں میں بھر لیا جائے
حسن محفوظ کر لیا جائے

زندگی سے کلام کرنے کو
اذن نور سحر لیا جائے

ہم سے پاداش میں محبت کی
جان لی جائے سر لیا جائے

بے خطا ہے تو پھر بھی ڈر اے دوست
بے خطا ہی نہ دھر لیا جائے

شہر امید کتنا دل کش ہے
آؤ کچھ دن ٹھہر لیا جائے

کیسا سرسبز ہے تمہارا ساتھ
اس کو تصویر کر لیا جائے

افتخار حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم