MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتے

غزل

اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتے
ہم آہ تو بھرتے ہیں دہائی نہیں دیتے

کچھ درد ہیں ایسے کہ جو چہرے سے عیاں ہیں
کچھ زخم ہیں ایسے جو دکھائی نہیں دیتے

وہ راستے جچتے ہی نہیں اہل دلاں کو
وہ راستے جو آبلہ پائی نہیں دیتے

یادوں کی ہے اک بزم سجی خانۂ دل میں
اس بزم میں غیروں کو رسائی نہیں دیتے

ہم لوگ تعلق میں بہت صاف ہیں لیکن
ہم لوگ تعلق کی صفائی نہیں دیتے

افتخار حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم