MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو

غزل

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو
دوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کرو

ایک علاج دائمی ہے تو برائے تشنگی
پہلے ہی گھونٹ میں اگر زہر ملا دیا کرو

شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی
صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو

مقتل غم کی رونقیں ختم نہ ہونے پائیں گی
کوئی تو آ ہی جائے گا روز صدا دیا کرو

جذبۂ خاک پروری اور سکون پائے گا
خاک کرو ہمیں تو پھر خاک اڑا دیا کرو

پیرزادہ قاسم رضا صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم