MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے

غزل

یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے
تمہاری جیت ہو جائے ہماری ہار سے پہلے

کسی لمحے تمہارا وار کاری ہو بھی سکتا ہے
مگر یہ سر ہی جائے گا مری دستار سے پہلے

بتا کتنا گرا سکتا ہوں خود کو تیری خواہش پر
مرا معیار بھی تو ہے ترے معیار سے پہلے

نظارہ ہائے دل کش سے گزر جاتا تھا بیگانہ
مگر اے قامت زیبا ترے دیدار سے پہلے

ستاروں کی طرح چمکے ہمارے خون کے چھینٹے
کہ ہم نے سر کٹایا ہے فراز دار سے پہلے

تلاطم خیز موجوں سے مجھے لڑنا تو آتا ہے
مگر میں ڈوب سکتا ہوں کبھی منجدھار سے پہلے

ترا ہی عکس میری آنکھ کے تل میں فروزاں ہے
تجھے میں دیکھ سکتا ہوں ترے دیدار سے پہلے

کہیں بھی جرم سے پہلے سزا واجب نہیں ہوتی
کوئی کافر نہیں ہوتا مگر انکار سے پہلے

نئے امکان ڈھونڈے گی ہماری جستجو شاہدؔ
ہم اب کے در بنائیں گے مگر دیوار سے پہلے

افتخار شاہد ابو سعد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم