MOJ E SUKHAN

میں پریشان ہوں نئے گھر سے

غزل

میں پریشان ہوں نئے گھر سے
سارے دروازے لگتے ہیں سر سے

قرطبہ تو بنا نہیں سکتا
دل بناتا ہوں سنگ مرمر سے

جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں
جو گرجتے تھے آج وہ برسے

مختصر یہ کہ خانماں برباد
بستروں میں قیام کو ترسے

میں نے طوطا بدل لیا اکرامؔ
سرمئی رنگ کے کبوتر سے

اکرام عارفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم