MOJ E SUKHAN

لمحہ مری گرفت میں آیا نکل گیا

غزل

 

لمحہ مری گرفت میں آیا نکل گیا
جیسے کسی نے ہاتھ ملایا نکل گیا

کانٹا سا اک چبھا تھا مرے دل میں خوف مرگ
میں نے ذرا سا زور لگایا نکل گیا

شیطان میری ذات کے اندر مقیم تھا
لوبان کوٹھری میں جلایا نکل گیا

جب رات خوب ڈھل گئی سویا مرا وجود
کون و مکاں کی سیر کو سایا نکل گیا

مجھ میں مقیم شخص مسافر تھا دائمی
سامان ایک روز اٹھایا نکل گیا

اک پیچ دار کیل تھا یہ سر کائنات
میں نے اسے پکڑ کے گھمایا نکل گیا

امداد آکاش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم