MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لے

غزل

لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لے
وہ پیڑ نیم کا مرے اندر نہ دیکھ لے

دل خواہشوں کے کوچے میں نکلا تو ہے مگر
وہ طفل درد پھر کہیں پتھر نہ دیکھ لے

رستے کئی بدل کے میں لوٹا ہوں شہر سے
ڈر تھا کہ وہ عزیز کہیں گھر نہ دیکھ لے

برہم بہت ہے آج وہ ہر ایک شخص سے
اپنا ہی آئنے میں وہ پیکر نہ دیکھ لے

بوندیں لہو کی سونگھتی بلی وہ درد کی
دل کا لہولہان کبوتر نہ دیکھ لے

ہیں پودا لاجونتی کا خوابوں کی مورتیں
اکرامؔ وقت ہاتھ لگا کر نہ دیکھ لے

صبا اکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم