MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے

غزل

محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے
کہ جیسے پھول کتابوں میں رکھ دیا گیا ہے

چراغ گھر کی منڈیروں پہ رکھ دئے گئے ہیں
اور انتظار چراغوں میں رکھ دیا گیا ہے

کبھی جو یاد پرانی سجی تھی کمرے میں
اسے بھی اب تو درازوں میں رکھ دیا گیا ہے

صدائیں سرد ہواؤں کو سونپ دی گئی تھیں
پھر اس ہوا کو دریچوں میں رکھ دیا گیا ہے

میں اک گماں تھی فسانے میں ڈھل گئی آخر
وہ ایک خواب تھا آنکھوں میں رکھ دیا گیا ہے

سیما غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم