MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تجھے خبر ہے تجھے یاد کیوں نہیں کرتے

غزل

تجھے خبر ہے تجھے یاد کیوں نہیں کرتے
خدا پہ ناز خدا زاد کیوں نہیں کرتے

عجب کہ صبر کی میعاد بڑھتی جاتی ہے
یہ کون لوگ ہیں فریاد کیوں نہیں کرتے

رگوں میں خون کے مانند ہے سکوت کا زہر
کوئی مکالمہ ایجاد کیوں نہیں کرتے

مرے سخن سے خفا ہیں تو ایک روز مجھے
کسی طلسم سے برباد کیوں نہیں کرتے

یہ حادثہ ہے کہ شعلے میں جان ہے میری
مجھے چراغ سے آزاد کیوں نہیں کرتے

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم