MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کئی سوال مچلتے ہیں ہر سوال کے بعد

غزل

کئی سوال مچلتے ہیں ہر سوال کے بعد
شب وصال سے پہلے شب وصال کے بعد

نہ جانے کیوں یہ مرا دل دھڑکنے لگتا ہے
ترے خیال سے پہلے ترے خیال کے بعد

ہر ایک داؤ سے واقف تھی اے مرے ہمدم
میں تیری چال سے پہلے میں تیری چال کے بعد

نہ جانے کیوں تری یادیں طواف کرتی ہیں
کسی ملال سے پہلے کسی ملال کے بعد

تری قسم ترا چہرہ ہی رو بہ رو تھا مرے
ترے سوال سے پہلے ترے سوال کے بعد

فضا میں قوس قزح سی بکھر گئی ہر سمت
ترے جمال سے پہلے ترے جمال کے بعد

کہاں تھی ایک ہی حالت مرے دل و جاں کی
ترے خیال سے پہلے ترے خیال کے بعد

امیر شہر انہیں یاد کر جو ساتھ رہے
ترے زوال سے پہلے ترے زوال کے بعد

کوئی ہے رومیؔ مسلسل سوال کرتا ہے
مرے سوال سے پہلے مرے سوال کے بعد

رومانہ رومی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم