MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات

غزل

زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات
یہ کام ہمیں کر کے دکھاؤ تو بنے بات

کیوں بحر تمنا میں نہیں کوئی بھی ہلچل
طوفان کوئی اس میں جگاؤ تو بنے بات

جینے کے لئے ان کا تصور بھی بہت ہے
بے آس ہمیں جی کے بتاؤ تو بنے بات

جلنے کو تو یوں خون بھی جل جائے گا لیکن
پانی میں ذرا آگ لگاؤ تو بنے بات

دنیا میں طلب ہی کا تماشہ تو لگا ہے
منصور ہمیں بن کے دکھاؤ تو بنے بات

گرتی ہوئی دیوار کا سایہ نہ بتاؤ
پھر سے نئی دیوار اٹھاؤ تو بنے بات

احسان جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم