MOJ E SUKHAN

ہو کے باریک مل رہی ہے مجھے

غزل

ہو کے باریک مل رہی ہے مجھے
ہر خبر ویک مل رہی ہے مجھے

خوش بہت ہیں ہم ایک دوسرے سے
زندگی ٹھیک مل رہی ہے مجھے

پھول ہے عشق کا سہولت کار
اس سے تحریک مل رہی ہے مجھے

مطمئن ہوں کے صاحبو ہر چیز
گھر کے نزدیک مل رہی ہے مجھے

مہ وشوں کو دعائیں دیتا ہوں
حسن کی بھیک مل رہی ہے مجھے

میں تیقن کی کھوج میں تھا میاں
اور تشکیک مل رہی ہے مجھے

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم