MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے

غزل

جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
جانے کون آس پاس ہوتا ہے

آنکھیں پہچانتی ہیں آنکھوں کو
درد چہرہ شناس ہوتا ہے

گو برستی نہیں سدا آنکھیں
ابر تو بارہ ماس ہوتا ہے

چھال پیڑوں کی سخت ہے لیکن
نیچے ناخن کے ماس ہوتا ہے

زخم کہتے ہیں دل کا گہنہ ہے
درد دل کا لباس ہوتا ہے

ڈس ہی لیتا ہے سب کو عشق کبھی
سانپ موقع شناس ہوتا ہے

صرف اتنا کرم کیا کیجے
آپ کو جتنا راس ہوتا ہے

گلزار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم