MOJ E SUKHAN

کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے

غزل

کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے
برسوں کے بعد میرا مقدر ملا مجھے

جب تشنگی بڑھی تو مسیحا نہ تھا کوئی
جب پیاس بجھ گئی تو سمندر ملا مجھے

دنیا مرے خلاف نبرد آزما رہی
لیکن وہ ایک شخص برابر ملا مجھے

زخم نگاہ زخم ہنر زخم دل کے بعد
اک اور زخم تجھ سے بچھڑ کر ملا مجھے

نازک خیالیوں کی مجھے یہ سزا ملی
شیشہ تراشنے کو بھی پتھر ملا مجھے

اختر سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم