MOJ E SUKHAN

کبھی تم نے کچھ تو دیا نہیں کبھی ہم نے کچھ تو لیا نہیں

غزل

کبھی تم نے کچھ تو دیا نہیں کبھی ہم نے کچھ تو لیا نہیں
ہمیں زندگی سے ہو بحث کیا کوئی واقعہ تو ہوا نہیں

مگر ایسی کوئی خلش بھی تھی جو فقط ہمارا نصیب تھی
کہ جو روگ ہم نے لگا لیا کسی اور کو تو لگا نہیں

ذرا دیکھنا کہ وہ کون ہے پس رمز وحشت عاشقی
بھلا کس نے ہم کو شکست دی کبھی پہلے ایسا ہوا نہیں

جسے پاس آنا تھا آ گیا کہ نفس کے تار بھی جڑ گئے
کہ طلب کی تھیں یہی منزلیں کوئی فاصلہ تو رہا نہیں

بڑی وسعتیں ہیں زمین پر ہمیں اور چاہئے کیا مگر
وہ جو حسن اس کی نظر میں ہے کوئی اس سے بڑھ کر ملا نہیں

وہ جو مل چکی ہیں اذیتیں چلو مان لیں کہ بہت ہوا
مگر اب ملا ہے جو حوصلہ کسی اور کو تو ملا نہیں

احمد ہمیش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم