MOJ E SUKHAN

کس توقع پہ کیا اٹھا رکھیے

غزل

کس توقع پہ کیا اٹھا رکھیے
دل سلامت نہیں تو کیا رکھیے

لکھیے کچھ اور داستان دل
اور زمانہ کو مبتلا رکھیے

سر میں سودا رہے محبت کا
پاؤں میں خاک کی انا رکھیے

بوند بھر آب کیا مقدر ہے
ابر رکھیے تو کچھ ہوا رکھیے

اس سے پہلے کوئی جلانے آئے
آپ اپنا ہی گھر جلا رکھیے

قبل انصاف چل بسا ملزم
اب عدالت سے کیا روا رکھیے

جان جانی ہے جب عبث ہی ہمیشؔ
پھر تو دنیا سے فاصلہ رکھیے

احمد ہمیش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم