MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمیں اپنی ذات سے عشق ہوا ہم اپنے لئے بیتاب ہوئے

غزل

ہمیں اپنی ذات سے عشق ہوا ہم اپنے لئے بیتاب ہوئے
تم لوگ پرائے ہجر میں تھے تم اپنے لئے نایاب ہوئے

ہمیں کس کی خبر ہمیں کس کا پتہ ہمیں اپنا حصول ضروری تھا
معلوم نہیں اوروں کے لئے ہم خواب ہوئے کہ سراب ہوئے

اس گاؤں کے سب کچے رستے کسی شہر سے جا کر ملتے ہیں
اس گاؤں میں جب سیلاب آیا وہ شہر بھی زیر آب ہوئے

وہ بہار کا منظر اب جیسے مری آنکھ میں آکر ٹھہر گیا
مری سوچ کے سب بہتر لمحے تری یاد سے مل کے گلاب ہوئے

کیوں ایسی دعائیں کی جائیں جو قبول بھی ہوں تو پتہ نہ چلے
جنہیں سینت کے رکھا مدت تک وہ گناہ بھی نذر ثواب ہوئے

پھر ذہن میں سوچیں اٹھتی ہیں پھر سوچ کو پہلو ملتے ہیں
تری یاد کے مضموں پر اب تک کتنے ہی سوال و جواب ہوئے

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم