غزل
سنا تھا نیزہ و تلوار و خنجر بیچ ڈالے ہیں
مگر ظل الٰہی نے تو لشکر بیچ ڈالے ہیں
پڑی ہیں ریت کے ٹیلوں پہ ٹوٹی کشتیاں اپنی
ہوا ہے اب کے موجوں نے سمندر بیچ ڈالے ہیں
اگر وہ میری آنکھیں بیچ دیتا تو مناسب تھا
مگر اس نے تو ان آنکھوں کے منظر بیچ ڈالے ہیں
کسی نے احتراماً اک عجائب گھر کے کمرے میں
ہمارے جسم رکھے ہیں مگر سر بیچ ڈالے ہیں
محبت سے بھرے خط بھیجتے رہتے تھے جو اکثر
اب ان لوگوں نے بھی اپنے کبوتر بیچ ڈالے ہیں
کسی دن اپنے بچوں سے لپٹ کر روئیں گے ناداں
جنہوں نے شہر جا کر گاؤں کے گھر بیچ ڈالے ہیں
یہ وہ احسان ہے تجھ سے جو مرتے دم نہ اترے گا
کہ تیری پرورش میں ماں نے زیور بیچ ڈالے ہیں
نفس انبالوی