MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں تو تنہا تھا مگر تجھ کو بھی تنہا دیکھا

غزل

میں تو تنہا تھا مگر تجھ کو بھی تنہا دیکھا
اپنی تصویر کے پیچھے ترا چہرا دیکھا

جس کی خوشبو سے مہک جائے شبستان وصال
دوستو تم نے کبھی وہ گل صحرا دیکھا

اجنبی بن کے ملے دل میں اترتا جائے
شہر میں کوئی بھی تجھ سا نہ شناسا دیکھا

اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کہ تجھ کو دیکھیں
ساری دنیا میں پھرے اور نہ کیا کیا دیکھا

کوئی صورت بھی شناسا نظر آئی نہ ہمیں
گھر سے نکلے تو عجب شہر کا نقشہ دیکھا

اس قدر دھوپ تھی سنولا گئے رخشاں چہرے
جلتے سورج کا مگر رنگ بھی پیلا دیکھا

پیڑ کا دکھ تو کوئی پوچھنے والا ہی نہ تھا
اپنی ہی آگ میں جلتا ہوا سایہ دیکھا

تھے اندھیروں کے تعاقب میں اجالے کیا کیا
خود تماشہ تھے جمیلؔ اور تماشہ دیکھا

جمیل ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم