MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کل تک کتنے ہنگامے تھے اب کتنی خاموشی ہے

غزل

کل تک کتنے ہنگامے تھے اب کتنی خاموشی ہے
پہلے دنیا تھی گھر میں اب دنیا سے رو پوشی ہے

پل بھر جاگے گہری نیند کا جھونکا آیا ڈوب گئے
کوئی غفلت سی غفلت مدہوشی سی مدہوشی ہے

جتنا پیار بڑھایا ہم سے اتنا درد دیا دل کو
جتنے دور ہوئے ہو ہم سے اتنی ہم آغوشی ہے

سب کو پھول اور کلیاں بانٹو ہم کو دو سوکھے پتے
یہ کیسے تحفے لائے ہو یہ کیا برگ فروشی ہے

رنگ حقیقت کیا ابھرے گا خواب ہی دیکھتے رہنے سے
جس کو تم کوشش کہتے ہو وہ تو لذت-کوشی ہے

ہوش میں سب کچھ دیکھ کے بھی چپ رہنے کی مجبوری تھی
کتنی معنی خیز جمیلؔ ہماری یہ بے حوشی ہے

جمیل ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم