MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر ایک چہرہ یہاں درد کی کتاب لگے

غزل

ہر ایک چہرہ یہاں درد کی کتاب لگے
تمہارا شہر تو اک شہر اضطراب لگے

یہ کور چشمی ہے یا جلتے سورجوں کا اثر
کوئی بھی شکل نہ اب بنت ماہتاب لگے

نہ جانے کیوں مرا لہجہ ہے سخت سخت اتنا
کہ التماس کا انداز بھی عتاب لگے

یہ بانجھ بانجھ سے بادل یہ ریت ریت زمیں
ببول کی یہ جگہ ہے کہاں گلاب لگے

ہر ایک سمت دھواں سا ہے ناامیدی کا
ہر ایک منزل امید اب سراب لگے

یہ کس مقام پہ لے آئی آگہی مجھ کو
نہ سنگ سنگ لگے اور نہ آب آب لگے

نہ وہ ہی وہ ہے نہ میں میں نہ تم ہی تم بدنام
سبھی کے چہرے پہ ہیں سیکڑوں نقاب لگے

بدنام نظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم