MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تم کو یہ ہے اگر یقیں دل میں وہ جلوہ گر نہیں

غزل

تم کو یہ ہے اگر یقیں دل میں وہ جلوہ گر نہیں
ڈھونڈھا کرو تمام عمر ملنے کا عمر بھر نہیں

آئے نہ آئے بے خبر کیا تجھے یہ خبر نہیں
سانس کا اعتبار کیا شام ہے تو سحر نہیں

دیر ہو کعبہ ہو کہ دل کس میں وہ جلوہ گر نہیں
دیکھ سکوں مگر اسے اتنی مری نظر نہیں

کنج قفس میں عندلیب مضطر و بیکس و غریب
کہنے کو بال و پر تو ہیں اڑنے کو بال و پر نہیں

دل میں بلا کا جوش ہے سر لئے سرفروش ہے
جینے کا ہوش ہے کہاں مرنے کا اس کو ڈر نہیں

توڑ رہا ہے آج دم غم میں کوئی مریض غم
پھر بھی ہیں آپ بے خبر آپ کو کچھ خبر نہیں

جان گئے یہ مر کے ہم ملک عدم تھا دو قدم
ختم ہو جلد جو سفر ایسا کوئی سفر نہیں

پردے میں آپ بیٹھ کر رکھتے ہیں ہر طرف نظر
اور زبان پر یہ ہے شوخ مری نظر نہیں

لب پہ ہے نعرۂ الست جھوم رہا ہے کوئی مست
چھائی ہے ایسی بے خودی اپنی اسے خبر نہیں

اف یہ مرا نصیب بد جا کے بنی کہاں لحد
سب کی ہے رہ گزر جہاں آپ کی رہ گزر نہیں

بات یہ تم نے سچ کہی بسملؔ بے ہنر سہی
یہ بھی ہے اک بڑا ہنر اس میں کوئی ہنر نہیں

بسمل الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم