MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا

غزل

جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا
وہ بت کیوں صبح کو ٹوٹا ہوا تھا

اگر سچ کی حقیقت اب کھلی ہے
تو جو اب تک نظر آیا تھا کیا تھا

اگر یہ تلخیوں کی ابتدا ہے
تو اب تک کون سا امرت پیا تھا

کھلا ہے مجھ پہ اب دنیا کا مطلب
مگر یہ راز پہلے بھی کھلا تھا

میں جس میں ہوں یہ دنیا مختلف ہے
جہاں میں تھا وہ عالم دوسرا تھا

میں خود کو مار کر پہنچا یہاں تک
تو یاد آیا کہ میں تو مر چکا تھا

مری میں اور تری میں دونوں ہاریں
میں بندہ ہوں مگر تو تو خدا تھا

میں اب جو منہ چھپائے پھر رہا ہوں
تو کیا میں واقعی چہرہ نما تھا

فیصل عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم