MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

راکھ اڑتی ہوئی بالوں میں نظر آتی ہے

غزل

راکھ اڑتی ہوئی بالوں میں نظر آتی ہے
عمر گزرے ہوئے سالوں میں نظر آتی ہے

جب بھی کھولا ہے یہ ماضی کا دریچہ میں نے
کوئی تصویر خیالوں میں نظر آتی ہے

شام کے ساتھ جو جادو ہو نگاہوں کا تری
شام ویسی مرے گالوں میں نظر آتی ہے

بستی دل میں جہاں روز تھا ہنگامہ نیا
وہ بھی اجڑے ہوئے حالوں میں نظر آتی ہے

کبھی تنہائی جو راتوں کو ستاتی تھی ہمیں
اب وہی دن کے اجالوں میں نظر آتی ہے

 

فرح اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم