MOJ E SUKHAN

کبھی میں نے انہیں پوچھا نہیں ہے

غزل

کبھی میں نے انہیں پوچھا نہیں ہے
انہیں بھی ہے محبت یا نہیں ہے

اجازت ہو تو میں یہ عرض کر دوں
سلیقہ آپ کا اچھا نہیں ہے

وہی چھایا ہوا ہے زندگی پر
وہ جس کو آج تک دیکھا نہیں ہے

ستم آلام محرومی تباہی
مری تقدیر میں کیا کیا نہیں ہے

ابھی کچھ اور بھی جور و ستم ہوں
ابھی صدموں سے دل ٹوٹا نہیں ہے

نہ جانے کس گھڑی چھن جائے مجھ سے
یہ ظالم جسم بھی میرا نہیں ہے

مری تقدیر ہی میں ٹھوکریں تھیں
مجھے دنیا سے کچھ شکوہ نہیں ہے

عجب انسان ہے دنیا میں وہ بھی
صدائے وقت جو سنتا نہیں ہے

کہاں رہتے ہو عاصیؔ آج کل تم
کئی دن سے تجھے دیکھا نہیں ہے

پنڈت ودیا رتن عاصی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم