MOJ E SUKHAN

یہ ہے جینے کا مزہ رہنے دو

غزل

یہ ہے جینے کا مزہ رہنے دو
درد کا پیڑ ہرا رہنے دو

حبس اتنا ہے گھٹا جاتا ہے دم
اک دریچہ تو کھلا رہنے دو

آس کا جگنو چمکتا رکھو
دل کے داغوں کو ہرا رہنے دو

روشنی کی ہے ضرورت سب کو
اک روزن تو کھلا رہنے دو

اک دیا اور نہ بجھ جائے کہیں
اج ہے تیز ہوا رہنے دو

اپنی انکھوں سے نہ پونچھو انسو
ان ستاروں کو سجا رہنے دو

سر منزل بھی ہے منزل کی تلاش
رستہ کانٹوں سے بھرا رہنے دو

رائیگاں عمر ہوئی ہے روبی
کون ہوتا ہے فنا رہنے دو

روبینہ راجپوت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم