MOJ E SUKHAN

کرتا ہے کوئی اور بھی گریہ مرے دل میں

غزل

کرتا ہے کوئی اور بھی گریہ مرے دل میں
رہتا ہے کوئی اور بھی مجھ سا مرے دل میں

وہ مل گیا پھر بھی یہ لگاتار اداسی
شاید ہے کوئی اور بھی دھڑکا مرے دل میں

اک رنج میں ڈوبا ہوا بے نام مسافر
آیا تھا بڑی دور سے ٹھہرا مرے دل میں

جس شام کو بھولے ہوئے اک عمر ہوئی تھی
چمکا ہے اسی شام کا تارا مرے دل میں

اک ہوک سی اٹھتی ہے سر بام تمنا
وہ میری خوشی سے کبھی رہتا مرے دل میں

آئے ہیں یہاں تک تو چلو اس سے بھی مل لیں
یہ دھیان بھی اک بار تو آیا مرے دل میں

جس آگ کو کہتے ہیں قیامت سے نہیں کم
بہتا ہے اسی آگ کا دریا مرے دل میں

صابر وسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم