MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دن کو مسمار ہوئے رات کو تعمیر ہوئے

غزل

دن کو مسمار ہوئے رات کو تعمیر ہوئے
خواب ہی خواب فقط روح کی جاگیر ہوئے

عمر بھر لکھتے رہے پھر بھی ورق سادہ رہا
جانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے

یہ الگ دکھ ہے کہ ہیں تیرے دکھوں سے آزاد
یہ الگ قید ہے ہم کیوں نہیں زنجیر ہوئے

دیدہ و دل میں ترے عکس کی تشکیل سے ہم
دھول سے پھول ہوئے رنگ سے تصویر ہوئے

کچھ نہیں یاد کہ شب رقص کی محفل میں ظفرؔ
ہم جدا کس سے ہوئے کس سے بغل گیر ہوئے

صابر ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم