MOJ E SUKHAN

گھر میں آرام کا سایہ نہیں رہنے دیتی

غزل

گھر میں آرام کا سایہ نہیں رہنے دیتی
اب تو تنہائی بھی تنہا نہیں رہنے دیتی

مفلسی کتنی خطرناک ہے تم کیا جانو
یہ سلامت کوئی رشتہ نہیں رہنے دیتی

یہ تو اچھا ہوا سانسوں پہ نہیں بس اس کا
ورنہ دنیا مجھے زندہ نہیں رہنے دیتی

چاہتی کیا ہے یہ آوارہ مزاجی میری
ایک مرکز پہ ہمیشہ نہیں رہنے دیتی

کیا بری شے ہے یہ شہرت کی ہوس بھی عالمؔ
اچھے اچھوں کو بھی اچھا نہیں رہنے دیتی

عالم نظامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم