غزل
گھر میں آرام کا سایہ نہیں رہنے دیتی
اب تو تنہائی بھی تنہا نہیں رہنے دیتی
مفلسی کتنی خطرناک ہے تم کیا جانو
یہ سلامت کوئی رشتہ نہیں رہنے دیتی
یہ تو اچھا ہوا سانسوں پہ نہیں بس اس کا
ورنہ دنیا مجھے زندہ نہیں رہنے دیتی
چاہتی کیا ہے یہ آوارہ مزاجی میری
ایک مرکز پہ ہمیشہ نہیں رہنے دیتی
کیا بری شے ہے یہ شہرت کی ہوس بھی عالمؔ
اچھے اچھوں کو بھی اچھا نہیں رہنے دیتی
عالم نظامی