MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اک شخص رات بند قبا کھولتا رہا

غزل

اک شخص رات بند قبا کھولتا رہا
شب کی سیاہیوں میں شفق گھولتا رہا

تنہائیوں میں آتی رہی جب بھی اس کی یاد
سایہ سا اک قریب مرے ڈولتا رہا

حسن بہار خوب مگر دیدۂ بہار
موتی چمن کی خاک پہ کیوں رولتا رہا

اس نے سکوت کو بھی تکلم سمجھ لیا
کچھ اس ادائے خاص سے دل بولتا رہا

ہجراں کی رات مشغلۂ دل سے پوچھئے
اس زلف خم بہ خم کی گرہ کھولتا رہا

ہم کشتگان خواب گراں گوش ہی رہے
سورج سروں پہ وقت سحر بولتا رہا

اس راہ جذب سے بھی گزرنا پڑا ظہیرؔ
جس راہ میں خرد کا قدم ڈولتا رہا

ظہیر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم