MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیں

غزل

چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیں
بہ فیض عشق سمجھدار ہو گئیں آنکھیں

تمہارا عکس اتارا ہے مدتوں ان میں
عجب نہیں ہے جو تہہ دار ہو گئیں آنکھیں

یہ سوتے جاگتے جو خواب دیکھنے لگی ہیں
جناب عشق سے دو چار ہو گئیں آنکھیں

یہ جان لیتی ہیں سب حالتیں ترے دل کی
مراد یہ ہے کہ اوتار ہو گئیں آنکھیں

نہ لوٹنے کو تھا جانا کسی کو ساتھ اس کے
سو بن بتائے ہی تیار ہو گئیں آنکھیں

ندیم ناجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم