MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دنیا سمجھ رہی ہے کہ پتھر اچھال آئے

غزل

دنیا سمجھ رہی ہے کہ پتھر اچھال آئے
ہم اپنی پیاس جا کے سمندر میں ڈال آئے

جو پھانس چبھ رہی ہے دلوں میں وہ تو نکال
جو پاؤں میں چبھی تھی اسے ہم نکال آئے

کچھ اس طرح سے ذکر تباہی سنائیے
آنکھوں میں خون آئے نہ شیشے میں بال آئے

سمجھو کہ زندگی کی وہیں شام ہو گئی
کردار بیچنے کا جہاں بھی سوال آئے

گزرو دیار فکر سے منصورؔ اس طرح
خود پر زوال آئے نہ فن پر زوال آئے

منصور عثمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم