MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اپنی پسند چھوڑ دی اس کی خرید لی

غزل

اپنی پسند چھوڑ دی اس کی خرید لی
ورثے کا کھیت بیچ کے کوٹھی خرید لی

اک عمر اپنے بیٹوں کو انگلی تھمائی پھر
بوڑھے نے اک دکان سے لاٹھی خرید لی

ویسے تو نرخ کم ہی تھے گندم کے اس برس
آئی تھی تیرے گاؤں سے مہنگی خرید لی

ہم دوستوں کے پیار میں ہم رنگ ہیں لباس
اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ وردی خرید لی

تصویر اپنی خود ہی مصور کو بھا گئی
خود گیلری میں پیش کی خود ہی خرید لی

اے ہجر زاد تم کو بھی ہے آرزوئے وصل
اے دشت زاد تم نے بھی کشتی خرید لی

دراصل مسئلہ تو ہے چلنا گھڑی کے ساتھ
اس سے غرض نہیں ہے کہ کیسی خرید لی

پارس مزاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم