MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا کسی مے کش نے مانگی ہے دعا برسات کی

غزل

کیا کسی مے کش نے مانگی ہے دعا برسات کی
میکدہ بردوش آتی ہے گھٹا برسات کی

کیوں ہوا باندھے نہ اب ہر پارسا برسات کی
بے پیے مدہوش کرتی ہے فضا برسات کی

ایک مدت سے ہمیں بھولا ہوا تھا مے کدہ
کچھ تقاضا کر رہی ہے پھر ہوا برسات کی

یوں اڑایا جا رہا تھا میرے رونے کا مذاق
آج اس نے بات چھیڑی بارہا برسات کی

شغل مے نوشی ہے جائز اس لئے برسات میں
کچھ تو پینا چاہئے کھا کر ہوا برسات کی

دہر میں یہ دو ہی چیزیں ہیں دلیل برشگال
یا ہماری چشم گریاں یا گھٹا برسات کی

ملتی جلتی ہے ہماری چشم گریاں سے بہت
اک ذرا پابند موسم ہے گھٹا برسات کی

ساون آتے ہی جو ہم روئے کسی کی یاد میں
ہو گئی ساحرؔ یہیں سے ابتدا برسات کی

ساحر سیالکوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم