MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

روبرو بت کے دعا کی بھول ہو جائے تو پھر

غزل

روبرو بت کے دعا کی بھول ہو جائے تو پھر
اور پھر وہ ہی دعا مقبول ہو جائے تو پھر

میں بڑھاؤں ہاتھ جس کانٹے کی جانب شوق سے
ہاتھ میں آ کر وہ کانٹا پھول ہو جائے تو پھر

بادبانوں پر ہوا ہو مہرباں اور دفعتاً
ٹکڑے ٹکڑے ناؤ کا مستول ہو جائے تو پھر

نفرتیں بے زاریاں بغض و تعصب دشمنی
زندگی کا بس یہی معمول ہو جائے تو پھر

قاتلوں کو کر دیا جائے بری الزام سے
واجب تعزیر خود مقتول ہو جائے تو پھر

لمحہ لمحہ منزلیں ہوتی چلی جائیں بعید
اور قسمت راستے کی دھول ہو جائے تو پھر

حال دل اپنا بیاں کرنے کی خواہش ہے مگر
کچھ توجہ آپ کی مبذول ہو جائے تو پھر

یعقوب تصور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم