MOJ E SUKHAN

غزل

اب افسوس کرنے سے کیا ہوگا حاصل
ہماری تباہی میں تم بھی تھے شامل

قیامت جو گزری ہے ہم پر جہاں میں
نہیں اس میں اپنی خطا کوئی شامل

بس آنکھوں میں آئے ہوئے اشک پی کر
دل غم زدہ پر تو رکھ صبر کامل

ہے قبضہ سبھی ساحلوں پر عدو کا
کہیں بھی نہیں میری کشتی کا ساحل

دعا ہی ہوئی جب نہ پوری ہماری
دل اپنا ہے اب تو گناہوں پہ مائل

دعا مانگتا ہے ہمیشہ یہ سہگلؔ
بنانا مجھے اپنے ہی در کا سائل

احسان سہگل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم