غزل
اب افسوس کرنے سے کیا ہوگا حاصل
ہماری تباہی میں تم بھی تھے شامل
قیامت جو گزری ہے ہم پر جہاں میں
نہیں اس میں اپنی خطا کوئی شامل
بس آنکھوں میں آئے ہوئے اشک پی کر
دل غم زدہ پر تو رکھ صبر کامل
ہے قبضہ سبھی ساحلوں پر عدو کا
کہیں بھی نہیں میری کشتی کا ساحل
دعا ہی ہوئی جب نہ پوری ہماری
دل اپنا ہے اب تو گناہوں پہ مائل
دعا مانگتا ہے ہمیشہ یہ سہگلؔ
بنانا مجھے اپنے ہی در کا سائل
احسان سہگل