MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آنکھوں کو تری دیکھیں گے مے خانہ کہیں گے

غزل

آنکھوں کو تری دیکھیں گے مے خانہ کہیں گے
ہونٹوں سے اگر پوچھو گے پیمانہ کہیں گے

موقوف فقط ہم پہ نہیں یار اسے سن
جو تجھ سے ملے گا اسے دیوانہ کہیں گے

وابستہ تری ذات سے بستی ہے جہاں کی
جب تو نہ ہوا خلق میں ویرانہ کہیں گے

مرنے سے ترے ڈر کے کہیں راز کو اپنے
اس بات پہ مرتا ہے تو مر جا نہ کہیں گے

بدنامئی روزانہ ہے شب باشئی بے جا
کہنی تھی جو کچھ کہہ چکے سمجھا نہ کہیں گے

یہ بات جو ہے آج دم نقد عزیزاں
اس عشقؔ کو سنتے ہو کل افسانہ کہیں گے

خواجہ رکن الدین عشق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم