MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں

غزل

نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں
کہ ہم پرندے مقامات گم شدہ کے ہیں

ستم یہ دیکھ کہ خود معتبر نہیں وہ نگاہ
کہ جس نگاہ میں ہم مستحق سزا کے ہیں

قدم قدم پہ کہے ہے یہ جی کہ لوٹ چلو
تمام مرحلے دشوار انتہا کے ہیں

فصیل شب سے عجب جھانکتے ہوئے چہرے
کرن کرن کے ہیں پیاسے ہوا ہوا کے ہیں

کہیں سے آئی ہے بانیؔ کوئی خبر شاید
یہ تیرتے ہوئے سایے کسی صدا کے ہیں

راجیندر من چندا بانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم