MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے

غزل

اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے
نرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہے

اس اشک و آہ میں سودا بگڑ نہ جائے کہیں
یہ دل کچھ آب رسیدہ ہے کچھ جلا بھی ہے

یہ آرزو ہے کہ اس بے وفا سے یہ پوچھوں
کہ میرے بے مزا رکھنے میں کچھ مزا بھی ہے

یہ کون ڈھب ہے سجن خاک میں ملانے کا
کسو کا دل کبھو پانو تلے ملا بھی ہے

یقیںؔ کا شور جنوں سن کے یار نے پوچھا
کوئی قبیلۂ مجنوں میں کیا رہا بھی ہے

انعام اللہ خاں یقیں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم