MOJ E SUKHAN

رابطہ تو بحال رکھا ہے

غزل

رابطہ تو بحال رکھا ہے
پر مجھے کل پہ ٹال رکھا ہے
ایک غم نے نڈھال رکھا ہے
پھر بھی خود کو سنبھال رکھا ہے
اس سے آتی ہے آپ کی خوشبو
ہم نے کُرتا سنبھال رکھا ہے
دل امانت ہے تیرے قدموں کی
جانے والے ! سنبھال رکھا ہے
چار خانے ہیں میرے سینے میں
جن میں بھر کر ملال رکھا ہے
ہم نے ماتھے پہ اتنے برسوں سے
ایک بوسہ اجال رکھا ہے
میری خاموشی رد نہ ہو پائی
میں نے رب کو مثال رکھا ہے
کرن منتہیٰ
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم