MOJ E SUKHAN

ہو گیا عشق کا آزار خدا خیر کرے

غزل

ہو گیا عشق کا آزار خدا خیر کرے
ہے مصیبت میں دل زار خدا خیر کرے

جان بچتی نظر آتی نہیں اپنی مجھ کو
مجھ سے برہم ہے مرا یار خدا خیر کرے

بے خبر تھا وہ مری حالت بد سے لیکن
ان دنوں ہے وہ خبردار خدا خیر کرے

دل سے اس بت کے اتر کر کہیں اپنا جینا
ہو نہ جائے مجھے دشوار خدا خیر کرے

ہائے وہ دل جسے حاصل تھا کبھی وصل حبیب
ہجر میں اب ہے گرفتار خدا خیر کرے

اس کی قسمت ہے سنبھل جائے جو بیمار فراق
ورنہ اچھے نہیں آثار خدا خیر کرے

یوں ہی کیا کم تھی بھلا عارض جاناں کی بہار
اس پہ یہ کثرت انوار خدا خیر کرے

دیکھ کر حسن دل افروز کو اس کے اے دل
یہی کہتا ہوں میں ہر بار خدا خیر کرے

دیکھنے کو بھی جو وہ جرم بتاتے ہیں تو ہاں
دیکھنے کا ہوں گنہ گار خدا خیر کرے

بات کیا ہے کہ مرا حال تو ابتر تھا ہی
آپ کا حال بھی ہے زار خدا خیر کرے

کثرت شوق سے وہ دل کہ جو تھا خوگر جور
لطف کا اب ہے طلب گار خدا خیر کرے

اب تو اس شوخ نے وہ روپ نکالا ہے جلیلؔ
ایک عالم ہے خریدار خدا خیر کرے

جلیل قدوائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم