MOJ E SUKHAN

داور حشر ذرا اور بڑھے بات کہ بس

غزل

داور حشر ذرا اور بڑھے بات کہ بس
مجھ سے کچھ اور بھی پوچھیں گے سوالات کہ بس

جس کو سن کر کبھی خوش ہوتے ہو ناراض کبھی
آپ فرمائیں کہ دہراؤں وہی بات کہ بس

کیا میں اب چھوڑ دوں یا رب یہیں امید کا ساتھ
کیا ابھی اور ٹھہر سکتی ہے یہ رات کہ بس

زندگی کیا اسی الجھن میں گزر جائے گی
کیا ابھی اور بھی بگڑیں گے یہ حالات کہ بس

یہ قیامت کی گھڑی سر سے ٹلے گی یا رب
ہیں دکھانے کو ابھی اور کمالات کہ بس

اوم کرشن راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم