MOJ E SUKHAN

ہم غم زمانہ سے یوں نظر ملائیں گے

غزل

ہم غم زمانہ سے یوں نظر ملائیں گے
مشکلیں پڑیں گی جب اور مسکرائیں گے

پھر بہار آئے گی پھول مسکرائیں گے
پھر جنوں کے افسانے ہم کو یاد آئیں گے

ظاہری تپاک ان کا دے گیا ہمیں دھوکا
یہ سمجھ رہے تھے ہم دل سے دل ملائیں گے

آسماں کے سہ پارو تیز گام سیارو
عن قریب تم سے بھی ہم قدم ملائیں گے

جادوئی خرد ہے وہ یہ جنوں کی منزل ہے
تم ادھر نہ آؤ گے ہم ادھر نہ جائیں گے

وہ ہزار ٹھکرائے ہم سے روٹھ بھی جائے
زندگی کو خود بڑھ کر ہم گلے لگائیں گے

آج تو جمالیؔ کو بزم سے اٹھاتے ہیں
ایک دن ضرور اس کو آپ پھر بلائیں گے

بدر جمالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم