MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیں

غزل

وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیں
جو پیہم جستجو کرتے ہیں برسوں غم اٹھاتے ہیں

جو سچ پوچھو تو خود جیتے ہیں اور جینا سکھاتے ہیں
وہ دیوانے جو ہر طوفان غم میں مسکراتے ہیں

کچھ اس انداز سے وہ اپنی محفل میں بلاتے ہیں
کہ انساں کے قدم اٹھنے سے پہلے کانپ جاتے ہیں

وہ پچھلی شب کو اپنے رخ سے جب پردا اٹھاتے ہیں
مرا احساس شاہد ہے دو عالم جھوم جاتے ہیں

تعجب کیوں ہے میری بے خودی پر اہل محشر کو
وہ جس کو بھی پلاتے ہیں کچھ ایسی ہی پلاتے ہیں

نہیں کچھ خاک دل لیکن پہنچ کر ان کے دامن تک
یہی ذرے مہ و خورشید بن کر جگمگاتے ہیں

محبت ابتدا تا انتہا عرفان کامل ہے
مگر ہم تو انہیں پانے سے پہلے کھوئے جاتے ہیں

ترا کوچہ ہی کیوں رہ رہ کے پیہم یاد آتا ہے
اسی عالم میں عالم اور بھی تو پائے جاتے ہیں

شکایت کر رہے ہو کیفؔ تم کو شکر لازم ہے
وہ مشکل سے کسی کو اپنا دیوانہ بناتے ہیں

کیف مراد آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم