MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ جس کا رنگ سلونا ہے بادلوں کی طرح

غزل

وہ جس کا رنگ سلونا ہے بادلوں کی طرح
گرا تھا میری نگاہوں پہ بجلیوں کی طرح

وہ روبرو ہو تو شاید نگاہ بھی نہ اٹھے
جو میری آنکھ میں رہتا ہے رتجگوں کی طرح

چراغ ماہ کے بجھنے پہ یہ ہوا محسوس
نکھر گئی مری شب تیرے گیسوؤں کی طرح

وہ آندھیاں ہیں کہ دل پر تمہاری یادوں کے
نشاں بھی مٹ گئے صحرا کے راستوں کی طرح

مری نگاہ کا انداز اور ہے ورنہ
تمہاری بزم میں ہوں میں بھی دوسروں کی طرح

قریب آئے تو گم کردہ رہ دکھائی دیئے
جو دور سے نظر آتے تھے منزلوں کی طرح

ہر اک نظر کی رسائی نہیں کہ دیکھ سکے
ہجوم رنگ ہے خاروں میں بھی گلوں کی طرح

نہ جانے کیسے سفر کی ہے آرزو دل میں
میں اپنے گھر میں پڑا ہوں مسافروں کی طرح

میں دشت درد ہوں یادوں کی نکہتوں کا امیں
ہوا تھمے تو مہکتا ہوں گلشنوں کی طرح

دمک رہا ہے جبین دوام پر فرہاد
شرار تیشہ فروزاں ہے مشعلوں کی طرح

اسی کی دھن میں چٹانوں سے سر کو ٹکرایا
وہ اک خیال کہ نازک تھا آئنوں کی طرح

صادق نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم